قدیم مصری فن تعمیر

تعریف

Joshua J. Mark
کی طرف سے ترجمہ کیا گیا ہے، Zohaib Asif
18 September 2016 پر شائع
translations icon
دیگر زبانوں میں دستیاب: انگریزی, فرانسیسی, کاٹالانین
The Pyramids, Giza, Egypt (by Shellapic76, CC BY)
اہرام جیزا، مصر
Shellapic76 (CC BY)

قدیم مصری فن تعمیر کو بالعموم اہرام جیزا کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ سلسلہ کافی متنوع تھا، جس نے انتظامی عمارات، مندروں، مقبروں، محلات اور ہر عام و خاص کے گھروں کی تعمیر میں خود کو ظاہر کیا۔ ان مختلف عمارات کی آرائش بھی ان کے مقصد اور معمار کے وسائل کے مطابق مختلف تھی۔

اس سب کے باوجود اہرام قدیم مصر کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی علامت ہیں۔ اگرچہ دیگر تہذیبوں، جیسے مایا یا چینیوں نے بھی اس شکل کو استعمال کیا، جدید دور میں ہرم زیادہ تر لوگوں کے ذہنوں میں مصر کا مترادف تصور کیا جاتا ہے۔ جیزا کے اہرام ان کی تعمیر کے ہزاروں سال بعد بھی متاثر کن یادگار بنے ہوئے ہیں اور ان کی تعمیر کے لیے درکار علم، فہم، ادراک اور مہارت ان کی تعمیر سے کئی صدیوں قبل حاصل کی گئی تھی۔

اس کے باوجود اہرام قدیم مصری فن تعمیر کا عروج نہیں ہیں۔ یہ محض ایک ثقافت کے ابتدائی اور سب سے مشہور و معروف شہادتوں میں سے ہیں جس نے عمارتوں، یادگاروں اور مندروں و معابد کو اسی انداز میں تعمیر کرنے کا طرہ اپنے سر لیا۔

۶۰۰۰ سالہ تاریخ

قدیم مصری تاریخ پیش دودمانی دور (قریبا ۶۰۰۰ تا ۳۱۵۰ ق م) سے پہلے شروع ہوتی ہے اور بطلیما خاندان (۳۲۳ تا ۳۰ ق م) کے اختتام تک جاری رہتی ہے۔ اس علاقے میں جسے اب صحرائے اعظم کہا جاتا ہے مویشیوں کے چرنے کی افراط کے نمونے اور ثبوت اس علاقے میں قریبا ۸۰۰۰ قبل مسیح سے انسانی رہائش کی گواہی دیتے ہیں۔ مصر میں بدایۃ الاسرۃ دور (c. ۳۱۵۰ تا ۲۶۱۳ ق م) ان لوگوں کے علم پر قائم ہوا جو پیش رو تحے اور پیش دودمانی فن اور فن تعمیر کو پچھلی بنیادوں پر مزید بہتر بنایا گیا۔

مصر کا پہلا ہرم، سقارة میں زوسر کا ہرم مدرج، اس بدایۃ الاسرۃ دور کے اختتام پر تعمیر ہوا تھا اور اس یادگار اور اس کے آس پاس کے احاطے کا ابتدائی صدیوں کے مَصطَبَہ مقبروں سے موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ مصری فن تعمیر کے حوالے سے ڈیزائن اور تعمیر کے میدانوں میں اپنے فہم و ادراک میں کس حد تک آگے بڑھ چکے تھے۔ ان عظیم یادگاروں اور ان کے بعد آنے والوں کے درمیان تعلق بھی اتنا ہی متاثر کن ہے۔

جیزا کے اہرام الدولۃ قدیمیۃ (۲۶۱۳ تا ۲۱۸۱ ق م) سے منسوب ہیں اور اس وقت حاصل کیے گئے ہنر، پختہ کاری اور مہارت کے عروج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ قدیم مصری تاریخ، تاہم، اس سے پہلے ابھی بھی ایک طویل اور شاندار راستہ طے کر آئی تھی اور جیسے ہی اہرام کی شکل ترک کر دی گئی تھی، مصریوں نے اپنی توجہ مندروں اور معابد پر مرکوز کی۔ ان میں سے بہت سے، جن کے کھنڈرات اب بھی موجود ہیں، جیسا کہ کرناک میں واقع امون را کا مندر، جیزا کے اہرام کے مانند حقیقی خوف، حیرت اور وحشت کے جذبات کو مدعو کرتا ہے لیکن یہ سب اہرام، چاہے وہ عظیم ہوں یا حقیر، تفصیل کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہیں اور جمالیاتی خوبصورتی اور عملی فعالیت کی آگاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو انہیں فن تعمیر کا شاہکار بناتی ہے۔ ان عمارات کی عظمت آج بھی ہے کیونکہ ان کو متصور، متعین اور تعمیر ایک ابدی کہانی سنانے کے لیے کیا گیا تھا جس کا تعلق اب بھی ہر اس شخص سے ہے جو ان مقامات کا دورہ کرتا ہے۔

ان عمارات کی عظمت آج بھی ہے کیونکہ ان کو متصور، متعین اور تعمیر ایک ابدی کہانی سنانے کے لیے کیا گیا تھا جس کا تعلق اب بھی ہر اس شخص سے ہے جو ان مقامات کا دورہ کرتا ہے

مصری فن تعمیر اور ایک نئ دنیا کی تخلیق

مصری مذہب کے مطابق عہد عتیق میں تاریک و سیاہ ہیولے کے پانے کے گردابوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ان اساسی و اولین گردابوں سے خشک زمین کا ایک ٹیلا نکلا، جسے بین بین کہا جاتا ہے، جس کے گرد پانی گھومتا تھا۔ ٹیلے پر دیوتا اتوم کو روشن کیا جس نے اندھیرے میں باہر دیکھا اور خود کو تنہا محسوس کیا۔ سو اس نے اپنی ذات میں ہی انضمام کر لیا اور اس کے مدغم ہونے سے تخلیقی عمل کا آغاز ہوا۔

اتوم نامعلوم کائنات، ہمارے اوپر موجود آسمان اور ہمارے قدموں تلے موجود زمین کی تخلیق کا ذمہ دار تھا۔ اپنی اولاد اور ذریات کے ذریعے وہ انسانوں کا خالق بھی تھا (حالانکہ کچھ روایات کے مطابق اس سلسلے میں دیوی نیتھ بھِی اس میں کردار ادا کرتی ہے)۔ دنیا اور انسان کے احاطے میں موحود تمام علم و فہم کی بنیاد پانی، نمی اور نیل کے ڈیلٹا میں موجود مصریوں کا آشنا ماحول تھا۔ ہر چیز دیوتاؤں نے بنائی تھی اور یہ دیوتا فطرت کے ذریعے کسی کی زندگی میں ہمیشہ حلول کیے رہتے تھے اور ہمیشہ موجود رہتے۔

دریائے نیل کا اپنے کناروں سے بہہ نکلنا اور اور زندگی بخش مٹی کو تہہ بہ تہہ جمع کرنے کے عمل کو اوسائرس خدا کا کارنامہ سمجھا گیا۔ یہ وہی زندگی بخش مٹی تھی جس پر لوگ اپنی فصلوں کے لیے انحصار کرتے تھے۔ جب شام کو سورج غروب ہوا تو اس فعل کو دیوتا را کے ساتھ وابستہ کیا گیا جو بجرے میں تھا جو عالم مستور میں جا رہا تھا اور لوگ اس سلسلے میں خوشی و جوش سے رسومات میں حصہ لیتے تھَے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنے حریف اور باداش عمل اپوفس کے حملوں سے بچ جائے گا اور اگلی صبح دوبارہ طلوع ہوگا۔ ہتھور دیوی درختوں میں موجود تھی، باسٹیٹ کے ذمہ خواتین کے رازوں کی پردہ پوشی کرنا اور گھر کی حفاظت کرنا تھا، تھوتھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے لوگوں کو خواندگی کا تحفہ عطا کیا، آئیسس اگرچہ ایک عظیم اور طاقتور دیوی تھی، لیکن وہ اکیلی ماں بھی تھی جس نے اپنے جوان بیٹے ہورس کو ڈیلٹآ کے دلدلوں میں پالا تھا۔ اور زمین پر ماؤں پر سایہ عاطفت قائم رکھا۔

Djed pillars
جید ستون
Michael Tinkler (CC BY-NC-SA)

دیوتاؤں کی زندگیاں عام لوگوں کی زندگیوں کی عکاسی کرتی تھیں اور مصریوں نے ان کی زندگیوں میں اور ان کے کاموں کے توسط سے ان کی عزت و عظمت کو مزید بڑھا دیا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ دیوتاؤں نے قدیم مصر کے لوگوں کے لیے ایک مثالی دنیا فراہم کی تھی۔ اور یہ مثالی دنیا اپنے معیار کے اعتبار سے اس قدر کامل تھی کہ اسے جاودانی اور دوامی تصور کیا جاتا تھا۔ حیات بعد الموت صرف اس زندگی کا ایک تسلسل تھی جو ایک فرد جی رہا تھا۔ پھر یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ جب ان لوگوں نے ان عظیم یادگاروں کو تعمیر کیا تو وہ یہ سارا سلسلہ ان کے اعتقادی نظام اور ایمانی ضوابط کی عکاسی کرتا تھا۔ قدیم مصری فن تعمیر لوگوں کے اپنی زمین اور ان کے دیوتاؤں کے ساتھ تعلق اور مناسبت کی داستان بیان کرتا ہے۔ ان عمارات کا تناسب، نوشتہ جات، اندرونی ڈیزائن، غرض کہ یہ سب کچھ ہم آہنگی (ماعت) کے تصور کی نمائندگی کرتے ہیں جو قدیم مصری اقدار کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

پیش دودمانی اور بدایۃ الاسرۃ دور

پیش دودمانی دور میں مصر میں دیوتاؤں اور دیویوں کی تصاویر مجسمہ سازی اور کوزہ گری اور خزافی میں نمایاں ہیں لیکن اس وقت تک لوگوں کے پاس ابھی تک اس قدر تکنیکی مہارت نہیں تھی کہ وہ اپنے لیڈروں یا دیوتاؤں کی تعظیم کے لیے بڑی بڑی عظیم الشان اور دیو قامت عمارات تیار کر سکیں۔ اس عرصے کے دوران میں کسی نہ کسی طرح کی حکومت موجود تھی لیکن ایسا گمان ہوتا ہے کہ یہ علاقائی اور قبائلی تھی، مرکزی حکومت کی طرح کچھ بھی نہیں جوکہ بعد ازاں مصر کی الدولۃ قدیمیہ میں ظاہر ہوئی۔

پیش دودمانی دور کے مکانات اور مقبرے مٹی کی اینٹوں سے بنائے گئے تھے جنہیں دھوپ میں خشک کیا جاتا تھا (یہ ایک ایسا عمل جو مصر کی پوری تاریخ میں جاری رہا)۔ گھر سرکنڈوں کی گھاس سے بنے ایسے ڈھانچے تحے جو اینٹوں کے بنانے کی دریافت سے پہلے دیواروں کی تعمیر کے لیےمٹی سے ڈھکے ہوئے تھے۔ یہ ابتدائی عمارتیں اینٹوں کے استعمال سے پہلے گول یا بیضوی تھیں اور بعد میں مربع یا مستطیل بن گئیں۔ قبائل اور آبادی نقصان دہ عناصر، جنگلی جانوروں اور اجنبیوں سے تحفظ کے لیے اکٹھے ہوتے تھے اور انہوں نے بتدتیج شہروں کی شکل اختیار کر لی جسے دیواروں سے محیط کیا جاتا تھا

جیسے جیسے تہذیب ترقی کرتی گئی، اسی طرح لکڑی کے فریموں سے مزین اور آراستہ کھڑکیوں اور دروازوں کی ظاہری شکل کے ظہور کے ساتھ ساتھ فن تعمیر نے بھی ترقی کی منازل طے کیں۔ اس وقت مصر میں لکڑی بہت زیادہ تھی لیکن پھر بھی اس مقدار میں نہیں تھی کہ وہ کسی بڑے پیمانے پر تعمیراتی مواد کے طور پر مستعمل ہونے کے حوالے سے مجوزہ ہو۔ مٹی کی اینٹوں کا بیضوی گھر رفتہ رفتہ ایک مستطیل صورت اختیار کر گیا جس کی چھت، ایک باغ اور صحن تھا۔ مٹی کی اینٹوں میں کیے گئے کام اور کوزہ گری کا ثبوت مقبروں اور معابد کی تعمیر میں بھی ملتا ہے جس کا سلسلہ مصر میں بدایۃ الاسرۃ [ابتدائی خاندانی] دور کے دوران میں ڈیزائن میں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو گیا تھا۔ یہ ابتدائی بیضادی مقبرے (مصطبہ) مٹی کی اینٹوں سے بنائے جاتے رہے لیکن اس وقت تک لوگ اپنے دیوتاؤں کے مندر بنانے کے لیے پتھر کا استعمال کر رہے تھے۔ ان مندروں کے ساتھ، مصر کے الاسرۃ ثانیۃ [دوسرے خاندان] (تقریبا ۲۸۹۰ تا ۲۶۷۰ ق م) کے ذریعہ، پتھر سے بنی ہوئی یادگاریں (لوح تربت یا کتبہ) ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔

چوکنٹھا جو کہ چار اطراف اور ایک چھدری چھت کے ساتھ عمودی پتھر کی بڑی عمارات تھیں، تقریباً اسی وقت ہیلیپولیس [مصر الجدیدۃ یا بعلیک] شہر میں نمودار ہونا شروع ہوئیں۔ مصری چوکنٹھا (جسے مصری "تیخنو" پکارتے تھے، "اوبیلسک" اس کا یونانی نام تھا) مصری فن تعمیر کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے جو دیوتاؤں اور لوگوں کے درمیان تعلق کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ جوڑوں میں نمو اور ظہور پاتے تھے اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ زمین پر تخلیق ہونے والے جوڑے کا ہوبہو عکسی جوڑا عرش اعلی پر بھِی اسی وقت تخلیق کیا گیا۔ کھدائی، تراش خراش، نقل و حمل، اور ان چوکنٹھوں کی تعمیر کے لیے بہت زیادہ مہارت اور محنت درکار ہوتی تھی اور اس سارے سلسلے نے مصریوں کو سنگ کاری اور بھاری چیزوں کو کئی میل تک منتقل کرنے کا گر سکھایا۔ سنگ کاری میں مہارت حاصل کرنے نے مصری فن تعمیر میں اگلی عظیم جست کا مرحلہ طے کیا اور آخر کار انہیں اہرام تک لے گئ۔

Step Pyramid Complex at Saqqara
سقارۃ میں موجود مدرج ہرم کا کمپلیکس
Dennis Jarvis (CC BY-SA)

سقارۃ میں زوسر کے مردہ خانے کا خیال اس کے وزیر اور چیف معمار امہوٹپ (تقریبا ۲۶۶۷ تا ۲۶۰۰ ق م) نے پیش کیا تھا جس نے اپنے بادشاہ کے لیے پتھر سے بنے ہوئے ایک عظیم مصبہ مقبرے کو تصور کی آنکھ سے دیکھا۔ زوسر کا ہرم ایک "حقیقی ہرم" نہیں ہے بلکہ تہہ شدہ مصطبوں کا ایک سلسلہ ہے جسے "مدرج ہرم" کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ ایک ناقابل یقین حد تک متاثر کن کارنامہ تھا جو پہلے کبھی حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ مورخ ڈیسمنڈ سٹیورٹ اس پر تبصرہ کرتے ہیں:

سقارہ میں زوسر کا مدرج ہرم ان پیش رفتوں اور ارتقائی منازل میں سے ایک کی نشاندہی کرتا ہے جو بعدازاں ناگزیر معلوم ہوتی ہے لیکن تجربہ کرنے والے متجسس فہم و ادراک کے بغیر یہ ناممکن ہوتا۔ یہ کہ شاہی عہدہ دار امہوٹپ ایک ایسا باصلاحیت، ذہین اور زیرک فنکار اور صاھب ہنر تھا جسے ہم، یونانی روایات اور مافوق الفطرت داستانوں سے نہیں، جنہوں نے اسے حکمت کے دیوتا اسكليبيوس سے منسوب کر دیا تھا، بلکہ اس بات سے جانتے ہیں کہ آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس کے اب بھی متاثر کن اہرام سے کیا کچھ اور کس نوعیت کا علم حاصل کیا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وہ ہر مرحلے پر نئے نئے تجربات کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ ان کی پہلی اختراع ایک مصطبہ بنانا تھی جو بیضوی نہیں بلکہ مربع شکل تھا۔ اس کی دوسری جدت طرازی اور ابداع کا تعلق اس مواد سے تھا جس سے اسے بنایا گیا تھا۔ (ناردو، ۱۲۵)

مندروں اور معابد کی تعمیر نے، اگرچہ معمولی سطح پر ہی سہی، مصریوں کو سنگ گاری سے پہلے ہی آشنا کر دیا تھا۔ امہوٹپ بڑے پیمانے پر اسی کا تصور اپنے ذہن میں لایا۔ ابتدائی،صطبوں کو نوشتہ جات اور سرکنڈوں، پھولوں، پتیوں اور اس قسم کے دیگر فطری عناصر کی تصویر کشی سے مزین اور منور گیا تھا۔ امہوٹپ اس روایت کو زیادہ پائیدار مواد کے استعمال کے حوالے سے جاری رکھنا چاہتا تھا۔ اس کے عظیم، بلند مصبطہ ہرم میں وہی نازک اور لطیف لمس کے عناصر اور رمزیت پائی جاتی تھی جو اس سے پہلے کی معمولی اور اوسط درجہ قبروں کے مانند تھیں اور مزید یہ کہ یہ سب سوکھی مٹی کے استعمال کے برعکس پتھروں کے استعمال سے تیار کیے گئے تھَ۔ مورخ مارک وان ڈی میروپ اس پر تبصرہ کرتے ہیں:

امہوٹپ نے پتھر کے استعمال سے وہی کچھ تیار کیا جو کچھ پہلے کسی دوسرے مواد کے استعمال سے تعمیر کیا گیا تھا۔ چاردیواری کے مہرے میں ویسے ہی طاق تھے جیسے مٹی کی اینٹوں سے تیار شدہ مقبروں میں، ستون سرکنڈوں اور پیپرس کے انباروں سے مماثلت رکھتے تھے، اور دروازوں چوکھٹ پر پتھر کےاسطوانہ [سلنڈر] سرکنڈے کے پردے کی نمائندگی کرتے تھے۔ اس سارے سلسلے میں بے انتہا تجربہ شامل تھی، جو خاص طور پر احاطے کے مرکز میں ہرم کی تعمیر میں واضح ہے۔ تاریخ کا پہلا مدرج ہرم بننے سے قبل اس کے پاس مصطبہ کی شکلوں کے ساتھ کئی منصوبے اور خاکے تھے، جس میں چھ مصطبوں جیسی سطح کی ایک دوسرے کے اوپر تہہ لگا دی گئی تھی ...اس ضخیم و عظیم عمارت کا وزن معماروں کے لیے کسی چنوتی اور مسابقت سے کم نہ تھا، جنہوں نے اس عمارت کے انہدام کو روکنے کے لیے پتھروں کی سلوں کو اندر کی جانب ایک خاص جھکاو پر ان کا مقام متعین کیا۔ [۵۶]

Detail, Step Pyramid of Djoser
زوسر کے مدرج ہرم کی تفصیلات
Institute for the Study of the Ancient World (CC BY)

مکمل ہونے پر، اس مددرج ہرم کی لمبائی ۲۰۴ فٹ (۶۲ میٹر) تھی اور یہ اپنے وقت کی سب سے اونچی عمارت تھی۔ آس پاس کے احاطے میں ایک مندر، صحن، مزارات اور پادریوں کے رہنے کے حجرے شامل تھے جو ۴۰ ایکڑ (۱۶ہیکٹر) کے رقبے پر محیط تھے اور ۳۰ ​​فٹ (۱۰۔۵ میٹر) اونچی دیوار سے گھرے ہوئے تھے۔ دیوار میں ۱۳ جھوٹے دروازے [کھڑکیاں] تعمیر کی گئی تھیں جن میں جنوب مشرقی کونے میں صرف ایک حقیقی داخلی دروازہ کاٹا گیا تھا۔ اس کے بعد پوری دیوار کو ۲۴۶۰ فٹ (۷۵۰ میٹر) لمبی اور ۱۳۱ فٹ (۴۰میٹر) چوڑی خندق سے گھیر دیا گیا تھا۔

زوسر کی اصل قبر ہرم کے نیچے ۹۲ فٹ (۲۸میٹر) لمبی سرنگ کے نیچے واقع تھی۔ مقبرے کا حجرہ خود سنگ خارہ [گرینائٹ] میں محصور و ملفوف تھا لیکن اس تک پہنچنے کے لیے برآمدوں کی ایک بھول بھلیاں سے گزرنا پڑتا تھا۔ یہ سب برآمدے اور غلام گردشیں چمکدار رنگوں سے مزین اور آراستہ کیے گئے تھے اور ٹائلوں سے جڑے ہوئے تھے، یہ برآمدے پھر دوسرے کمروں یا بند راستوں کی جانب کھلتے تھے جن کو پتھروں کے ایسے ظروف سے بھرا جاتا تھا جن پر سابقہ بادشاہوں کے نام منقش تھے۔ یہ بھول بھلیاں بلاشبہ بادشاہ کے مقبرے اور قبر کے سامان کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھی لیکن بدقسمتی سے یہ قدیم قبروں کے ڈاکوؤں کو روکنے میں ناکام رہی اور مقبرے کو زمانہ قدیم میں لوٹ لیا گیا۔

زوسر کا مدرج ہرم مصری فن تعمیر میں سب سے زیادہ معروف اور نامور عناصر کو شامل کرتا ہے: ہم آہنگی، توازن اور جاہ جو ثقافت کی بنیادی اقدار کی عکاسی کرتی ہیں۔ مصری تہذیب معت (ہم آہنگی، توازن) کے تصور پر مبنی تھی جس کا فیصلہ ان کے دیوتاؤں نے کیا تھا۔ قدیم مصر کا فن تعمیر، چاہے چھوٹے یا بڑے پیمانے پر، ہمیشہ ان نظریات کی نمائندگی کرتا تھا۔ یہاں تک کہ محلات کو دو داخلی راستوں، دو تخت والے کمروں، دو استقبالیہ ہالوں کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا تاکہ ڈیزائن میں بالائی اور زیریں مصر دونوں کی نمائندگی میں توازن اور تعدل برقرار رکھا جا سکے۔

الدولۃ قدیمیہ اور اہرام

امہوٹپ کی اختراعات کو الدولۃ قدیمیہ میں چوتھے شاہی سلسلے کے بادشاہوں نے آگے بڑھایا۔ مصر کے تیسرے خاندان کے آخری بادشاہ، ہنی (تقریبا ۲۶۳۰ تا ۲۶۱۳ ق م) کے بارے میں طویل عرصے سے گمان کیا جاتا تھا کہ اس نے میدوم میں اہرام کی تعمیر کے لیے الدولۃ قدیمیہ کے بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے شروع کیے تھے لیکن یہ اعزاز چوتھے شاہی سلسلے کے پہلے بادشاہ، سنیفیرو [تقریبا ۲۶۱۳ تا ۲۵۸۹ ق م] کو حاصل ہے۔ ماہر علم مصریات باربرا واٹرسن لکھتی ہیں، "سنفرو نے الدولۃ قدیمیہ کے سنہری دور کا آغاز کیا، اس کی سب سے قابل ذکر کامیابیاں دہشور میں اس کے لیے بنائے گئے دو اہرام ہیں" (۵۰-۵۱)۔ سنفرو نے اپنا کام میدوم کے اہرام کے ساتھ شروع کیا جسے اب "ہرم شکستہ" کہا جاتا ہے یا مقامی طور پر اس کی شکل کی وجہ سے "ہرم کاذب" کہا جاتا ہے: یہ ہرم سے زیادہ ایک مینار سے مشابہت رکھتا ہے اور اس کا بیرونی غلاف اس کے ارد گرد بجری کے ایک بہت بڑے انبار کی صورت میں جڑا ہوا ہے

Meidum Pyramid
ہرم میدوم
Jon Bodsworth (Public Domain)

میدوم کا ہرم مصر میں تعمیر ہونے والا پہلا حقیقی ہرم ہے۔ ایک "حقیقی ہرم" کی تعریف ایک بالکل ہموار عمارت کے طور پر کی گئی ہے جس کے قدموں کو بھر دیا گیا ہے تاکہ سب سے اوپر ایک نقطہ کی طرف ہموار اور بے دزر پہلو بنائے جائیں۔ اصل میں، سب اہرام ابتدا میں ایک مددرج اہرام ہی تھے. تاہم، میدوم کا ہرم دیر تک قائم نہ رہ سکا، کیونکہ امہوٹپ کے اصل ہرم کے ڈیزائن میں ترمیم کی گئی تھی جس کے نتیجے میں بیرونی غلاف چٹان کی بجائے ریت کی بنیاد پر ٹکا ہوا تھا، جس کی وجہ سے یہ منہدم ہو گیا۔ محققین اس بات پر اختلاف کرتے ہیں کہ یہ انہدام تعمیر کے دوران میں ہوا یا طویل عرصے کے بعد۔

پتھر کے ہرم کے ماڈل کےساتھ سنفرو کے تجربات اس کے جانشیونوں کے لیے بھی بے حد مفید ثابت ہوئے۔ خوفو (۲۵۸۹ تا ۲۵۶۶ قبل مسیح) نے اپنے والد کے تجربات سے سیکھا اور اپنی انتظامیہ کو جیزا کے عظیم اہرام کی تعمیر کی ہدایت کی، جو قدیم دنیا کے اصل سات عجائبات میں سے آخری ہے۔ عام خیال کے برخلاف کہ اس کا مقبرہ عبرانی غلاموں نے بنایا تھا، عظیم الشان ہرم پر مصری کارکنوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جاتی تھی اور وہ فلاح عامہ کے کاموں کے حوالے سے، تنخواہ دار مزدوروں کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے تھے، اس وقت کے دوران میں جب نیل کے سیلاب نے کاشتکاری کو ناممکن بنا دیا تھا۔ . محققین باب بریر اور ہوئٹ ہوبز بیان کرتے ہیں:

اگر ہر سال وہ دو مہینے نہ ہوتے جب دریائے نیل کا پانی مصر کی قابل کاشت زرخیز زمین کو ڈھانپ لیتا اور عملی طور پر تمام افرادی قوت کو بیکار بنا دیتا تو اس میں سے کوئی بھی تعمیر ممکن نہ ہوتی۔ ایسے وقتوں میں، ایک فرعون نے کام کے لیے کھانا پیش کیا اور آخرت میں بہترین سلوک کا وعدہ کیا جہاں وہ اسی دنیا کی طرح حکومت کرے گا۔ سالانہ دو مہینوں کے لیے، پورے ملک سے دسیوں ہزار کی تعداد میں کام کرنے والے ان سلوں کو منتقل کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں جو ایک مستقل طور پر کام کرنے والے عملے نے باقی سال کے دوران میں کھدائی کیے تھے۔ نگرانوں نے مردوں کو ٹیموں کی شکل میں منظم کیا تاکہ پتھروں کو سلیجوں پر منتقل کیا جا سکے، یہ سلیجیں وہ آلات جو پہیوں والی گاڑیوں کے مقابلے میں وزنی چیزوں کو منتقل کرنے والی ریت پر منتقل کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ ایک سنگ بست رستہ، جسے پانی سے چکنا گیا تھا، چڑھائی کو ہموار کرتا ہے۔ سلوں کو اپنی جگہ پر ثابت اور قائم رکھنے کے لیے کوئی ہاون یا کھرل استعمال نہیں کیا گیا، صرف اتنا درست کہ یہ بلند و بالا ڈھانچے ۴۰۰۰ سال سے زندہ ہیں - قدیم دنیا کے واحد عجائبات جو آج بھی موجود ہیں۔ (۱۷-۱۸)

اس بات کا کوئی بھی واثق ثبوت نہیں ہے کہ عبرانی غلاموں، یا غلاموں سے کروائی گئ کسی بھی قسم کی مزدوری، گیزا، پر-رامیسس کے شہر، یا مصر کے کسی دوسرے اہم مقام پر اہرام کی تعمیر میں ملوث ہوں۔ مصر میں غلامی کا رواج یقینی طور پر اس کی پوری تاریخ میں موجود تھا، جیسا کہ یہ ہر قدیم ثقافت میں ہوتا تھا، لیکن یہ اس قسم کی غلامی نہیں تھی جسے انجیل مقدس کی کتاب خروج پر مبنی افسانوں اور فلموں میں عام طور پر دکھایا گیا ہے۔ قدیم دنیا میں غلاموں کے کئی کردار تھے۔ وہ نوجوانوں کے اتالیق اور استاد، محاسب، نرسوں، رقص کے اساتذہ، مے ساز، یہاں تک کہ فلسفی بھی ہوسکتے ہیں۔ مصر میں غلام یا تو فوجی مہمات میں حاصل کیے گئے اسیر تھے یا وہ جو قرض ادا نہیں کر سکتے تھے اور یہ لوگ عموماً کانوں اور سرنگوں میں کام کرتے تھے۔

The Pyramids
اہرام
Oisin Mulvihill (CC BY)

عظیم ہرم پر کام کرنے والے مرد اور خواتین اس جگہ پر سرکاری فراہم کردہ مکانات میں رہتے تھے (جیسا کہ ۱۹۷۹عیسوی میں لیہنر اور ھواس نے دریافت کیا تھا) اور انہیں ان کی کوششوں اور خدمات کا اچھا معاوضہ دیا جاتا تھا۔ ایک کارکن جتنا زیادہ ہنر مند اور چست تھا، ان کا معاوضہ اتنا ہی زیادہ تھا۔ ان کے کام اور انتھک محنت شاقہ کا نتیجہ آج بھی جدید دور میں لوگوں کو حیران و پریشان کر دیتا ہے اور انہیں فکر کے سمندروں میں غوطہ زن ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ جیزا کا عظیم ہرم قدیم دنیا کے سات عجائبات میں سے واحد عجوبہ ہے جو باقی رہ گیا ہے اور جائز طور پر: ۱۸۸۹ عیسوی میں ایفل ٹاور مکمل ہونے تک، یہ عظیم ہرم زمین پر انسانی ہاتھوں سے تعمیر کردہ سب سے اونچا ڈھانچہ تھا۔ مورخ مارک وین ڈی میروپ لکھتے ہیں:

اس عظیم الجثہ عمارت کی جسمات ذہن کو جھنجھوڑ کی رکھ دیتی ہے: یہ اپنی بنیادی سطح پر ۱۴۶ میٹر اونچا (۴۷۹ فٹ) ۲۳۰ میٹر (۷۵۴ فٹ) چوڑا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں پتھر کے ۲،۳۰۰،۰۰۰ بلاکس ہیں جن کا اوسط وزن ۲ اور تین چوتھائی ٹن ہے۔ ان میں سے کئی ایسے بلاکس بھی ہیں جن کا وزن ۱۶ ٹن تک ہے۔ خفو نے ٹورین رائل کینن کے مطابق ۲۳ سال حکومت کی، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے دور حکومت میں سالانہ ۱۰۰،۰۰۰بلاکس - روزانہ تقریباً ۲۸۵ بلاکس یا دن کی روشنی میں ہر دو منٹ میں ایک پتھر کے بلاک کو کھودنا، منتقل کرنا، منور کرنا، اور ایک خاص مقام پر رکھنا پڑتا تھا... تعمیر ڈیزائن اور منصوبہ کے اعتبار سے تقریباً بے عیب تھی۔ اطراف بالکل مرکزی نقاط کی جانب تھے اور عین ۹۰ ڈگری کے زاویوں پر تھے۔ (۵۸)

جیزا میں تعمیر کردہ دوسرا ہرم خوفو کے جانشین خفری (۲۵۵۸-۲۵۳۲ قبل مسیح) کا ہے جس کے سر جیزا کی عظیم ابو الہول بنانے کا سہرا بھی چڑھایا جاتا ہے۔ تیسرا ہرم اس کے جانشین مینکاور (۲۵۳۲-۲۵۰۳ قبل مسیح) کا ہے۔ ۲۵۲۰ قبل مسیح کے دور کا حاصل کردہ ایک نوشتہ اور تحریر یہ بتاتی ہے کہ کس طرح مینکاور اپنے ہرم کا معائنہ کرنے آیا اور ۵۰ کارکنوں کو اپنے اہلکار ڈیبھن کے لیے ایک مقبرہ بنانے کا نیا کام سونپا۔ اس تحریر کے کچھ حصے میں لکھا ہے، "عالی جاہ نے حکم دیا کہ کسی بھی آدمی سے جبری مشقت نہیں کروائی جانی چاہیے" اور تعمیر کے لیے جگہ سے کچرا صاف کیا جانا چاہیے (لیوس، ۹)۔ یہ جیزا میں ایک عام رواج تھا جہاں بادشاہ اپنے دوستوں اور من پسند اہلکاروں کے لیے مقبرے اور مرقد تعمیر کرواتے تھے۔

The Pyramids of Giza, Aerial View
اہرام جیزا کا آکاشی مندر
Robster1983 (Public Domain)

جیزا کی سطح مرتفع آج اس سے بہت مختلف تصویر پیش کرتی ہے جو الدولۃ قدیمیۃ کے زمانے میں دکھائی دیتی تھی۔ یہ صحرا کے کنارے پر واقع وہ تنہا مقام نہیں تھا جو آج ہے بلکہ ایک قابل قدر قبرستانی علاقہ تھا جس میں دکانیں، کارخانے، بازار، معابد و مندر، رہائش، عوامی باغات اور بے شمار عمارات اور یادگاریں تھیں۔ عظیم ہرمکو چمکتے ہوئے سفید چونے کے پتھر کے ایک بیرونی سانچے میں ڈھانپ دیا گیا تھا اور چھوٹے شہر کے مرکز میں موجود تھا، جو اردگرد میلوں دور سے دکھائی دیتی تھی۔

جیزا ایک خود کفیل معاشرہ تھا جس کے لوگ سرکاری کارکن تھے لیکن چوتھے خاندان میں وہاں بہت بڑی یادگاروں کی تعمیر بہت مہنگی ثابت ہوئی۔ خفری کا ہرم اور کمپلیکس خوفو کے ہرم اور کمپلیکس سے تھوڑا چھوٹا ہے اور مینکورے کا ہرم اور کیمپلکس خفری سے چھوٹا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے چوتھے خاندان کے دور میں ہرم سازی کی روایت جاری رہی، ویسے ویسے وسائل کم ہوتے گئے۔ مینکورے کے جانشین، شیپسخاف (۲۵۰۳ تا ۲۴۹۸ قبل مسیح) کو سقارۃ میں ایک معمولی مصطبہ میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

اہرام کی قیمت نہ صرف مالی بلکہ سیاسی تھی۔ اس وقت مصر میں جیزا ہی واحد مقام نہیں تھا جہاں مقبرے اور مرقد تعمیر ہوتے تھے اور ان تمام مقامات کی دیکھ بھال اور انتظامیہ کی ضرورت تھی جو پادریوں کے ذریعہ انجام دی جاتی تھی۔ جیسے جیسے یہ مقامات بڑھتے گئے، اسی طرح پادریوں اور علاقائی گورنروں (نومارچوں, عاملین و منصب داروں ) کی دولت اور طاقت میں اضافہ ہوتا گیا جنہوں نے مختلف اضلاع کی صدارت کی اور ان کے نظم و نسق کا انتظام و انصرام کیا جن میں یہ مرقد و اہرام موجود تھے۔

الدولۃ قدیمیۃ کے بعد کے حکمرانوں نے مندر (یا بہت چھوٹے پیمانے پر اہرام) بنائے کیونکہ یہ زیادہ سستے تھے۔ اہرام سے ہیکل و مندر کی طرف منتقلی نے فہم و ذکاوت کے دائرہ کاروں میں بھی ایک گہری تبدیلی کا عندیہ پیش کیا جن کا تعلق پروہت کی بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ تھا: یادگاریں اب کسی مخصوص بادشاہ کی تعظیم کے لیے نہیں بلکہ ایک مخصوص خدا کے لیے تعمیر کی جا رہی تھیں۔

عہد وسیط اور دولت وسطی

پادریوں اوران عاملین و نومارچوں کی طاقت، دیگر عوامل کے ساتھ، الدولۃ قدیمیہ کے خاتمے کا موجب بنی. اس کے بعد مصر اس دور میں داخل ہوا جسے پہلا عہد وسیط (۲۱۸۱-۲۰۴۰ قبل مسیح) کہا جاتا ہے جس میں انفرادی علاقوں نے بنیادی طور پر حکومتی امور میں خود کفالت حاصل کی اور اپنے انتظامی معاملات کو خود سنبھالا۔ بادشاہ اب بھی منف سے حکومت کرتے تھے لیکن وہ بے اثر اور برائے نام بادشاہ تھے۔

Egyptian Construction
مصری تعمیراتی کام
Georges Perrot and Charles Chipiez (1883) (Public Domain)

مصر کے پہلے عہد وسیط کو روایتی طور پر مصر کا دور تنزل قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس دور میں فن تعمیر کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی عظیم یادگار نہیں تعمیر کی گئی تھی اور اس دور کے فن کے معیار کو الدولۃ قدیمیہ سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقیت، اگرچہ، صنعت و حرفت، دستکاری اور فن تعمیر مختلف میدان ہیں، اور ان میں اس حوالے سے برابری کا شائبہ نہیں. الدولۃ قدیمیہ میں، تعمیراتی کام ریاستی سرپرستی کے تحت ہوتے تھے، اور اسی صورت دستکاری بھی ہوا کرتی تھی، اور اسی طرح شاہی اقتدار کے ذوق کی عکاسی کرنے کے لیے کم و بیش یکساں رویہ برتا جاتا تھا۔ پہلے عہد وسیط میں، علاقائی فنکار اور معمار مختلف شکلوں اور طرزوں کو تلاش کرنے کے لیے خود مختار تھے۔ مورخ مارگریٹ بنسن لکھتی ہیں:

نومارچوں اور عاملین کے زیر انصرام، فن تعمیر الدولۃ قدیمیہ کے خاتمے کے اثرات سے محفوظ رہا۔ ان کی سرپرستی دور وسطی تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں بنی حسن (تقریبا ۱۹۰۰ ق م) جیسے قابل ذکر مقامات کا وجود ممکن ہوا جن میں پتھر کی تراش خراش اور کتر بیونت سے تعمیر کیے گئے مرقد اور منقش دیواروں اور ستونوں سے آراستہ بارہ دریاں موجود تھیں۔ (۳۲)

جب منتوحوتب الثاني (تقریبا ۲۰۶۱ تا ۲۰۱۰ قبل مسیح) نے مصر کو تھیبان کی حکمرانی کے تحت متحد کیا، دستاکری، فن تعمیر اور دیگر کئی فنون کو شاہی سرپرستی دوبارہ حاصل ہونا شروع ہوئی لیکن الدولۃ قدیمیہ کے برعکس، تنوع اور ذاتی اظہار کے خیال کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ دور وسطی کا فن تعمیر، جو کہ تھیبس کے قریب دیر البحری میں منتوحوتب الثاني کے عظیم الشان مردہ خانے سے شروع ہوتا ہے، اہمیت کے حوالے سے بیک وقت عظیم الشان اور ذاتی اعتبار سے پر شکوہ ہے۔

Temple of Amun, Karnak
امون کا مندر، کرناک
Dennis Jarvis (CC BY-SA)

بادشاہ سنوسرت الأول (تقریبا ۱۹۷۱ تا ۱۹۲۶ قبل مسیح) کے دور میں، کرناک میں امون-را کے رفیع الشان اور شاندار مندر کی تعمیر اس وقت شروع ہوئی جب اس بادشاہ نے اس مقام پر ایک معمولی عمارت تعمیر کروانے کا حکم دیا۔ یہ مندر، تمام دور وسطی کے تمام مندروں کے مانند، ایک بیرونی صحن، ستون دار گزرگاہوں اور غلام گردشوں کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا جو بارہ دریوں اور رسمی ایوانوں کی جانب کھلتے تھے، اور ایک اندرونی عبادت گاہ جس میں دیوتا کا مجسمہ سجایا گیا تھا۔ ان مقامات پر مقدس جھیلیں بنائی گئی تھیں اور اس سارے سلسے کا اجتماعی اثر دنیا کے آغاز اور کائنات کے ہم آہنگی عمل کی علامتی نمائندگی تھا۔ بنسن لکھتے ہیں:

مندر مذہبی عمارات تھیں جنہیں ایک الہی وجود کی "افقی سطح" سمجھا جاتا تھا، یہ وہ مقام تھا جس پر خدا تخلیقی عمل کے دوران میں وجود میں آیا تھا۔ اس طرح، ہر مندر کا ماضی سے ایک انمٹ تعلق اور رشتہ تھا، اور اس کے دربار کے اندر ادا کی جانے والی رسومات ایک خاص اصول کے طور پر نسل در نسل منتقل کر دی جاتی تھیں۔ یہ مندر کائنات کا آئینہ بھی تھا اور عتیقی پشتہ/تودے [پرائمول ماؤنڈ] کی نمائندگی کرتا تھا جہاں تخلیق کا آغاز ہوا تھا۔ (۲۵۸)

یہ ستوم مندر کے کمپلیکس کی رمزیت اور علامتیت کے ایک اہم پہلو کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے تھے۔ وہ صرف چھت کو سہارا دینے کے لیے نہیں استوار کیے گئے تھے بلکہ تعمیر کے مکمل کام میں اپنا ایک خاص معنی شامل کرنے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔ متنوع الاقسام ڈیزائنوں میں سے چند ایک آبی نرسل کے گٹھے کا ڈیزائن تھے (ایک مضبوطی سے تراشا ہوا ستون جو آبی نرسل کے سرکنڈوں سے مشابہت رکھتا تھا)؛ کنول کے پھول کا ڈیزائن، جو کہ مصر کی وسطی دور کے راج میں انتہائی مقبول ہوا، جس کا چہرہ کنول کے پھول کے مانند کھلتا تھا۔ ستونوں کی یہ قسم شگوفی ستون کہلاتی تھی جس کا چہرہ ایک شرمائے پھول سے مماثلت رکھتا تھا، اور جید ستون جو شاید زوسر کے ہرم کے کمپلیکس میں ہیب سیڈ کورٹ میں نسب ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مشہور و نامور ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ مصری فن تعمیر میں یہ جید ستون اس قدر وسیع پیمانے پر استعمال ہوا تھا کہ یہ ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پایا جا سکتا ہے۔ جید استحکام اور مضبوطی کے لیے ایک قدیم علامت سمجھا جاتا تھا اور کثرت سے ستونوں میں یا تو بنیاد پر، سرے پر استعمال ہوتا تھا (لہذا ظاہری طور پر ایسا گمان ہوتا تھا ہے کہ جید آسمان کو تھامے ہوئے ہے)، یا پھر یہ جید پورے ستون میں بھی جلوہ فروز ہوتا تھا۔

Palm-leaf Column of Ramesses II from Herakleopolis
مرکز إهناسيا میں واقع رامسیس دوم کے کھجور تنے کے ستون
Osama Shukir Muhammed Amin (Copyright)

دور وسطی کی بادشاہت کے دوران میں مکانات اور دیگر عمارتیں مٹی کی اینٹوں سے تعمیر ہوتی رہیں۔ پتھر صرف مندروں اور یادگاروں کے لیے استعمال ہوتا تھا اور یہ عام طور پر چونا پتھر، ریت کا پتھر یا بعض صورتوں میں سنگ خارہ ہوتا تھا جس کو بروئے کار لانے کے لیے سب سے زیادہ مہارت اور مشاقی درکار ہوتی تھی چونکہ یہ بہت ہی دقیق کام ہوتا تھا۔ هوارة المقطع شہر میں أمنمحات الثالث [۱۸۶۰ تا ۱۸۱۵ قبل مسیح] کا نجی ہرم کا کمپلیکس وسطی بادشاہت کا ایک بہت ہی گمنام شاہکار تھا جو کہ عرصہ دراز قبل منہدم ہو گیا تھا۔

یہ کمپلیکس بہت ہی وسیع و عریض تھا، جس میں بارہ طویل اور کشیدہ علیحدہ علیحدہ گزرگاہیں تھیں جو ستنوں سے مزین برآمدوں اور اندرونی دالانوں کے فراخ حصے میں ایک دوسرے کے بالمقابل آراستہ تھے۔ یہ اندرونی دالانوں کا سلسلہ اس قدر پیچیدہ کہ اسے ہیروڈوٹس نے "بھولبلیا" کے نام سے منسوب کیا چونکہ ان کی ترتیب نہایت پیچدار تھی۔ گزرگاہوں اور دالانوں کو راہداریوں اور سائبانوں اور سرنگوں [شافٹوں] کے ذریعے مزید بہتر پییچیدہ انداز میں جوڑا گیا تھا تاکہ کوئی زائر کسی جانے پہچانے ہال میں سے گزرے لیکن ایک غیر مانوس موڑ لے اور کمپلیکس کے ایک ایسے بالکل مختلف علاقے میں سے نمودار ہو جس کا خیال اس کی عقل کے کسی دریچے میں نہ آیا ہوگا۔

جالدار گلیوں اور پتھر کے پلگوں سے مہربند جعلی اور بناوٹی دروازے بادشاہ کے ہرم میں واقع مرکزی تدفین کے حجرے کی حفاظت کے لیے آنے والے زائر کو الجھانے اور جھلانے کا فرض ادا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس حجرے کو سنگ خارہ کے ایک بلاک سے کاٹا اور تراشا گیا تھا اور اس کا وزن ۱۱۰ ٹن تھا۔ ہیروڈوٹس نے دعویٰ کیا کہ یہ ان سب عجائبات سے زیادہ متاثر کن ہے جن کو اس نے اپنی چشم کی زینت بنایا تھا۔

دوسرا عہد وسیط اور دولت جدید

بارویھیں شاہی خاندان کے چشم و چراغ أمنمحات الثالث جیسے بادشاہوں نے مصری آرٹ اور فن تعمیر کے میدان میں بیش بہا قیمتی خدمات انجام دیں اور اس جوہر کو مزید نکھارا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان کی حکمت عملی کو ان کے جانشین تیروھیں شاہی خاندان نے بھی رواں رکھا۔ تاہم، تیروھاں شاہی خاندان کی حکومت قدرے کمزور اور ناپائیدار تھی اور اس خاندان کی حکمرانی کا سورج بہت کم عرصہ تک روشن رہا۔ حتی کہ، مرکزی حکومت کی طاقت اس حد تک گر گئی کہ ہکسوس نامی ایک خارجی گروہ زیریں مصر میں نمودار ہوا جب کہ نوبائی باشندوں نے جنوب میں موجود کچھ رقبہ پر قبضہ جما لیا۔ اس دور کو مصر کا دوسرا عہد وسیط (تقریبا ۱۷۸۲-۱۵۷۰ قبل مسیح) کہا جاتا ہے جس میں فنون لطیفہ کے میدان میں بہت کم ترقی دیکھنے میں آتی ہے۔

ہکسوس کو تھیبس کے احمس اول (تقریبا ۱۵۷۰-۱۵۴۴ قبل مسیح) نے مصر سے بدر کیا جس نے اس کے بعد نوبائی باشندوں سے مصر کی جنوبی سرحدوں کو محفوظ کیا اور اس دور کا آغاز کیا جسے مصر کی دولت جدید(۱۵۷۰-۱۰۶۹ قبل مسیح) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس دور میں دولت قدیمیہ کے بعد پہلی مرتبہ چند انتہائی شاندار تعمیراتی کارنامے دیکھنے کو ملے۔ اسی طرح جس طرح جدید زائرین اس راز سے حیران اور متجسس ہیں کہ جیزا میں اہرام کیسے بنائے گئے تھے، بالکل اسی طرح وہ حتشبسوت کے تدفینی کمپلیکس، کرناک میں واقع امون کا مندر، أمنحتب الثالث کی سرپرستی میں تعمیر شدہ بے انتہا تعمیرات کا سلسلہ ،رمسيس الثاني کے دور میں ہونے والی شاندار تعمیرات، جیسا کہ ابو سمبل، سے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔

Temple of Hatshepsut, Aerial View
حتشبسوت کے مندر کا آکاشی منظر
N/A (CC BY)

دولت جدید کے حکمرانوں نے ایک سلطنت کے طور پر مصر کے نئے اوج اور رفعت کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا۔ مصر کا سابقہ کبھی بھی کسی بدیشی طاقت سے ایسے نہیں ہوا تھا جیسا کہ ہکسوس نے ان کی اہنی زمین پر بائوں جما لیے۔ اور احمس اول نے انہیں نکال باہر کرنے کے بعد مصر کی سرحدوں کے ارد گرد احاطہ حاجز [بفر زون] بنانے کے لیے فوجی مہم شروع کی۔ ان علاقوں کو اس کے جانشینوں نے مزید وسعت عطا کی، خاص طور پر یہ فریضہ تحتمس الثالث (۱۴۵۸-۱۴۲۵ قبل مسیح) نے انجام دیا، یہاں تک کہ مصر ایک ایسی سلطنت کا مرکز تھا جو شام سے لے کر لیوانٹ [بحر روم کے مشرقی ساحل کا علاقہ]، لیبیا، اور نوبیا کے جنوبی سرحدون تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس دوران مین مصر بے حد دولت مند اور متمول ہو گیا اور دھن اور مال کی فراوانی اور ریل پیل تھی اور یہ دولت مندروں، مردہ خانوں کے احاطے اور یادگاروں کی تعمیر پر صرف کر دی گئی۔

ان سب میں سب سے بڑا کرناک میں واقع امون را کا مندر ہے۔ مصر کے دیگر تمام مندروں کی طرح، اس نے داستان ماضی، عام لوگوں کی زندگیوں، اور دیوتاؤں کی تعظیم کی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا لیکن اس کی تعمیر ایک پیہم جاری رہنے والا سلسلہ تھی کیونکہ دولت جدید کا ہر بادشاہ اپنے تئیں اس میں اضافہ کرتا رہتا۔ یہ جگہ ۲۰۰ ایکڑ سے زیادہ رقبہ پر محیط ہے اور یہ باب اعظم [پائلنز] کے ایک سلسلہ پر مشتمل ہے ( یہ پائلنز یادگاری دروازے ہوا کرت تھے جو جو اوپر کی طرف کنگنیوں تک مخروطی صورت میں اٹھایا جاتا تھا)، صحنوں، دیوانوں اور چھوٹے مندروں کی جانب کھلتے تھے۔

پہلا باب اعظم [پائلن] ایک وسیع دربار کی جانب کھلتا ہے جو آنے والے زائرین کا تجسس مزید بیدار کرتا ہے اور اسے اس مندر کےاسرار و رموز پرکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ دوسرا پائلن ستون دار دربار کی جانب کھلتا ہے جس کی پیمائش ۳۳۷ فٹ (۱۰۳ میٹر) اونچائی اور ۱۷۰ فٹ (۵۲ میٹر) چوڑائی ہے۔ ہال کو ۱۳۴ ستونوں کی جانب سے سہارا دیا گیا ہے جو کہ ۷۲ فٹ (۲۲ میٹر) لمبے اور جن کا قطر۱۱ فٹ (۳۔۵ میٹر) ہے۔ محققین کا اندازہ ہے کہ صرف مرکزی مندر کے اندر نوٹر ڈیم اسقف کی جسامت اور حجم کے برابری کی تین عمارات فٹ ہو سکتی ہیں۔ بنسن بیان کرتے ہیں کہ:

کرناک کا مندر اس کرہ ارض پر اب تک کا سب سے قابل ذکر مذہبی کمپلیکس ہے۔ اس کے ۲۵۰ ایکڑ پر محیط مندر اور معبد، چوکنٹھے، ستون اور مجسمے ۳۰۰۰ سال سے زائد عرصہ قبل تعمیر کیے گئے ہیں جو مصری فن اور فن تعمیر کے بہترین پہلوؤں کو پتھر کی ایک عظیم تاریخی یادگار کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں۔ [۱۳۳]

Temple of Amun Plan, Karnak
کرناک میں موجود امون مندر کا منصوبہ
Fletcher Bannister (Public Domain)

دوسرے تمام مندروں کی طرح، کرناک ہم آہنگی اور توازن کے اصول پر مبنی فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے جو زمین سے آسمان کی طرف باضابطہ طور پر اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔ اس عمارت اور کسی بھی دوسری عمارت کے درمیان بڑا فرق اس کا عظیم الشان رقبہ و معیار اور تخیل و تصور کی وسعت ہے۔ عمارت میں حصہ ڈالنے والے ہر حکمران نے اپنے پیشروؤں سے زیادہ ترقی کی لیکن ان لوگوں کی خدمات کو بجا طور پر تسلیم کیا جو پہلے گزر چکے تھے۔

جب تحتمس الثالث نے اس مندر میں اپنا تقریبی ہال تعمیر کروایا تو ایسا احتمال ہوتا ہے کہ اس نے شاید سابقہ بادشاہوں کی یادگاروں اور عمارتوں کو مسمار کر دیا ہو جن کی عظمت و حشمت کا اعتراف اس نے ایک نوشتہ کی صورت میں کیا تھا۔ ہر مندر مصری ثقافت اور عقیدے کی علامت اور نشانی ہے لیکن کرناک کے مندر نے اس امر کی ضمانت واضح انداز میں بہت بڑے حروف میں اور اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو واقعی نوشتہ جات کے ذریعے، دی ہے۔ کرناک کے مندر کی دیواروں اور ستونوں پر ہزاروں سال کی تاریخ کے نقوس پڑھے جا سکتے ہیں۔

حتشبسوت (۱۴۷۹-۱۴۵۸ قبل مسیح) نے دیگر سلاطین کے مانند کرناک کے مندر میں اپنا حصہ ڈالا لیکن اس نے ایسی پرشکوہ، مہتم بالشان اور شان و شوکت والی عمارتیں تعمیر کیں کہ بعد میں آنے والے بادشاہوں نے ان تعمیرات کا امتیاز خود حاصل کرنے کا دعوی کیا۔ اس کے عظیم الشان تعمیرات میں سے الاقصر کے قریب دیر البحری میں قائم کیا گیا اس کا مردہ خانہ ہے جس میں دولت جدید میں مروج مندروں کے فن تعمیر کے ہر پہلو کو بہت بڑے پیمانے پر شامل کیا گیا ہے جن میں پانی کے کنارے پر تخت نزول، قطب علم (ماضی کی علامتی نشانیاں)، پائلن[باب اعظم]، پیش دربار، ستون دار ہال, اور ایک پناہ گاہ شامل ہے۔ مندر تین درجوں میں بنایا گیا ہے جن کی اونچائی ۹۷ فٹ (۲۹۔۵ میٹر) ہے اور زائرین آج بھی اس عمارت کو دیکھ کر ششدر رہ جاتے ہیں۔

أمنحتب الثالث (۱۳۸۶-۱۳۵۳ قبل مسیح) نے پورے مصر میں اتنی یادگاریں تعمیر کروائیں کہ ابتدائی محققین نے اس کے سر ایک غیر معمولی طویل دور حکومت کا طرہ سجا دیا۔ أمنحتب الثالث نے ۲۵۰ سے زیادہ عمارات، یادگاروں، ستون عروقی اور مندروں کو اپنے زیرسرپرستی تعمیر کروایا۔ اس کے مردہ خانے کے احاطے کی حفاظت ممنون کی مورتوں کے ذمہ تھی۔ یہ مورتیں دو دیو قامت مجسمہ تھے جن کی بلندی ۷۰ فٹ (۲۱۔۳ میٹر) تھی اور ہر ایک کا وزن ۷۰۰ ٹن تھا۔ اس کا محل، جو اب ملکاتا کے نام سے جانا جاتا ہے، ۳۰،۰۰۰ مربع میٹر (۳۰ ہیکٹر) پر محیط ہے اور اس محل کو تخت خانوں، اپارٹمنٹس، باورچی خاننہ، کتب خانوں، دار الاجماع، تقریبی ہال اور دیگر تمام کمروں سے مزین اور آراستہ کیا گیا تھا۔

Colossi of Memnon, Luxor
میمنی مورتیں، الاقصر
Przemyslaw (CC BY-SA)

اگرچہ أمنحتب الثالث اپنے شاندار دور حکومت اور یادگار تعمیراتی منصوبوں کے لیے مشہور ہے، لیکن بعد میں آنے والا فرعون رامیسس دوم [۱۲۷۹-۱۲۱۳ قبل مسیح] اس حوالے سے اس سے بھی زیادہ مشہور و معروف ہے۔ بدقسمتی سے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسے اکثر انجیل مقدس کی کتاب خروج میں موجود بے نام فرعون کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے اور اس کا نام کہانی کا فلمی اطہار اور خروج ۱:۱۱ کی سطر کی مسلسل تکرار کے ذریعے پہچانا جاتا ہے کہ عبرانی غلاموں نے اس کے حکم پر پرآثوم اور پررامسیس کے شہروں کا سنگ بنیاد ڈالا۔

خروج کےمصنف کا اپنی کہانی گھڑنے سے عرصہ قبل، رامسیس دوم اپنے فوجی کارناموں، موثر حکمرانی، اور شاندار و عظیم الشان تعمیراتی منصوبوں کے لیے مشہور و معروف تھا۔ زیریں مصر میں ان کے شہر پر-رمیسس ("شہر رامیسس") کو مصری کاتبوں اور غیر ملکی زائرین نے بڑے پیمانے پر سراہا لیکن ابو سمبل میں اس کا تعمیر کردہ مندر کسی شاہکار سے کم نہ تھا۔ ٹھوس چٹانوں سے کٹا اور تراشا ہوا یہ مندر، ۹۸ فٹ (۳۰ میٹر) اونچا اور ۱۱۵ فٹ (۳۵ میٹر) لمبا ہے جس کے دروازے پر چار دویقامت مورتیں نصن ہیں، ہر جانب دو دو مجسمے موجود ہیں جن میں سے ہر ایک کی لبمائی ۶۵ فٹ [۲۰ میٹر] ہے۔ یہ مجسمے اپنے شاہی تخت پر براجمان رامیسس دوم کا نقشہ کھینچتے ہیں اور اس کی تصویر کشی کرتے ہیں۔

ان دیومالائی اور دہوش قامت مجسموں کے نیچے چھوٹے مجسمے (جو کہ معمول سے بلند و بالا تھے) نصب تھے جو کہ رامیسس کے تسخیر شدہ دشمنوں، نوبائیوں، لیبیا کے باشندوں اور حيثيوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ مزید مجسمے اس کے خاندان کے افراد اور مختلف حفاظتی دیوتاؤں اور طاقت و سطوت کی علامتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مجسموں کے مابین گزرتے ہوئے، مرکزی دروازے کو عبور کرت ہوئے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ مندر کے اندرونی حصے کو کس قدر دلکش کندہ کاری کے نمونوں سے مزین کیا گیا ہے جس میں رامسیس اور نیفرتاری کو دیوتاؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

The Small Temple, Abu Simbel
معبد صغیر، ابو سمبل
Dennis Jarvis (CC BY-SA)

ابو سمبل مشرق سمت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے تاکہ سال میں دو بار ۲۱ فروری اور ۲۱ اکتوبر کو سورج رامسیس دوم اور دیوتا امون کے مجسموں کو روشن کرنے کے لیے براہ راست معبد کے اندرونی حصے تک اپنی کرنیں پھیلا سکے۔ الہامی اور الوہی روایات سے تطبیق اور ہم آہنگی کا یہ عنصر قدیم مصری فن تعمیر کا ایک اور پہلو ہے جو عظیم الشان مندروں اور یادگاروں میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اہرام جیزا سے لے کر کرناک میں موجود امون کے مندر تک، مصریوں نے اپنی عمارتوں کو بنیادی مذہبی نکات کے مطابق اور آسمانی روایات اور معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا۔

مصریوں کی بھاشا میں اہرام کو میر کے نام سے منسوب کیا جاتا تھا، جس سے مراد "مقام معراج" ہے۔ (لفظ "پیرامیڈ" یونانی لفظ پائریمیس سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے "گندمی کیک۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یونانی سمجھتے تھے کہ اس عمارت کی ساخت بالکل کیک کی شکل و صورت سے مشابہت رکھتی ہے) جیسا کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس کی ساخت, بناوٹ اور ڈھانچہ پرلوک سدھارے بادشاہ کو افق کی جانب پرواز کرنے اور حیات بعد الموت کے میں اپنے اپنے وجود کے اگلا مرحلے کو زیادہ آسانی سے شروع کرنے کے قابل بنائے گا۔ اسی طرح، مندروں کو اس اندار سے تعمیر کیا گیا تھا کہ وہ دیوتائوں کو معبد کی اندرونی مقدس گاہ میں مدعو کرنے کا فریضہ انجام دیں اور یقیناً، جب وہ اپنے اعلیٰ دائروں میں واپس جانا چاہتے تھے، تو یہی مندر ان کے لیے رسائی فراہم کرنے کا انصرام و انتظام کریں۔

عہد انتقال و اختتام اور خاندان بطلیما

تھیبس میں موجود امون مندر کے پجاریوں کے فرعون سے زیادہ طاقت اور دولت حاصل کرنے کی بدولت دولت جدید کا روشن اور تابناک سورج بھی غروب ہو گیا۔ اور اسی دوران میں مصر کے سیاہ و سفید کے مالک کمزور سے کمزور ترین بادشاہ رہے۔ رایمسیس ۱۱۰۷-۱۰۷۷ قبل مسیح) کے دور تک پر-رامیسس شہر میں مرکزی حکومت مکمل طور پر غیر موثر تھی اور تھیبس کے اعلی پادری ہی حقیقی طور پر ارباب اختیار تھے۔

قدیم مصر کا آخری دور ۳۳۱ قبل مسیح میں سکندر اعظم کی آمد سے قبل اشوریوں اور فارسیوں کے حملوں سے عبارت ہے۔ روایت ہے کہ سکندر نے اسکندریہ شہر کی تعمیر و ساخت کا منصوبہ خود تیار کیا تھا اور پھر اس کی تعمیر کو اپنے ماتحتوں کے سپرد کر دیا تھا جب وہ اپنی فتوحات کو جاری رکھے ہوئے تھا۔ اسکندریہ اپنے شاندار فن تعمیر کی وجہ سے مصر کا نگینہ ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافت اور تعلیم کا ایک عظیم مرکز بن گیا۔ مؤرخ سٹرابو (۶۳ قبل مسیح تا ۲۱ عیسوی) نے اس شہر کے دورے پر اس شہر کی شان میں خامہ فرسائی ان الفاظ میں کی:

شہر میں شاندار قسم کے عوامی حلقے اور شاہی محلات موجود ہیں جو تمام رقبے کے چوتھائی یا ایک تہائی پر محیط ہیں۔ کیونکہ جس طرح ہر بادشاہ شان و شوکت کی وجہ سے عوامی یادگاروں میں اور عمارات میں اپنے تئیں خدمات انجام دیتا، اسی طرح وہ پہلے سے موجود عمارات کو بغیر چھیڑے اپنی رہائش کا انتظام اپنے ذاتی خرچ سے ایک اور عمارت یا محل تعمیر کر کے کرتا۔ [۱]

Lighthouse of Alexandria Illustration
سکندریہ کے مینارہ نور کا خاکہ
Prof. H. Thiersch (Public Domain)

اسکندریہ بطلیما خاندان (۳۲۳ قبل مسیح تا ۳۰ قبل مسیح) کے زمانے میں ایسا متاثر کن شہر بن گیا تھا کہ سٹرابو جیسا مورخ اس کی شان میں قصیدے کہے بغیر نہ رہ سکا۔ بطلیموس اول (۳۲۳- ۲۸۵ قبل مسیح) نے اسکندریہ کا عظیم کتب خانہ اور سیراپیم کے نام سے مشہور مندر کی تعمیر کا آغاز کیا جسے بطلیموس دوم (۲۸۵- ۲۴۶ قبل مسیح) نے مکمل کیا تھا جس نے اسکندریہ کا مشہور مینارہ نور بھی بنایا تھا، یہ وہ عظیم مینارہ ہے جو کہ دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک تھا۔

بطلیما خاندان کے ابتدائی حکمرانوں نے مصری فن تعمیر کی روایات کو جاری رکھا، اور ان کا اپنے یونانی طور طریقوں کے ساتھ امتزاج پیدا کر کے متاثر کن عمارتیں، یادگاریں اور مندر تعمیر کروائے۔ خاندان کا خاتمہ آخری ملکہ، کلیوپیٹرا ہفتم [۶۹-۳۰ قبل مسیح] کی موت کے ساتھ ہوا، اور اس ملک کو رومی سلطنت میں ضم اور مدغم کر لیا گیا تھا۔

مصری معماروں کی میراث ان یادگاروں کے ذریعے جو انہوں نے بطور ورثہ پیچھے چھوڑی ہیں کی وجہ سے آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔ مصر کے پرشوکت اہرام، مندر اور یادگار موجودہ دور میں بھی زائرین کو متاثر اور متجسس کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ امحوتب اور اس کے بعد آنے والوں نے پتھر کو استعمال کرتے ہوئے ایسی یادگاروں کا تصور کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ ان کی یادداشت اور میراث کو زندہ رکھیں گے۔ آج ان عمارات کی پائیدار مقبولیت اس ابتدائی تصور و تخیل کی پرواز کا ہی نتیجہ ہے اور یہ اپنے اس مقصد کو بہت اچھے طریقے سے پورا کرتی ہے۔

مترجم کے بارے میں

Zohaib Asif
سیاسیات کا پس منظر رکھنے والا تاریخ کا ایک پر جوش مداح. مجھے اپنے ذہن کے خلیوں کو بہتر کرنے، اپنے نقطہ نظر کو ترقی دینے، اپنے نگاہ انتخاب کو چمکانے اور اپنی ذہنی افق کو وسیع کرنے کا شوق ہے

مصنف کے بارے میں

Joshua J. Mark
ایک فری لانس لکھاری اورمارست کالج، نیو یارک کے سابقہ جزوقتی فلسفہ کے پروفیسر، جوشیا ج۔ مارک یونان اور جرمنی میں رہ چکے ہیں اور مصر کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کالج کی سطح پر تاریخ، ادب، تصنیف و تالیف اور فلسفی کی تعلیم دی ہے۔

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے سٹائل

Mark, J. J. (2016, September 18). قدیم مصری فن تعمیر [Ancient Egyptian Architecture]. (Z. Asif, مترجم). World History Encyclopedia. سے بازیافت https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-11685/

شکاگو سٹائل

Mark, Joshua J.. "قدیم مصری فن تعمیر." کی طرف سے ترجمہ Zohaib Asif. World History Encyclopedia. آخری ترمیم شدہ September 18, 2016. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-11685/.

ایم ایل اے سٹائل

Mark, Joshua J.. "قدیم مصری فن تعمیر." کی طرف سے ترجمہ Zohaib Asif. World History Encyclopedia. World History Encyclopedia, 18 Sep 2016. ویب. 29 Sep 2022.